بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اہل الذمہ کے لئے وصیت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل اہل الذمہ کے لئے وصیت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3330 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:"أَنَّ صَفِيَّةَ أَوْصَتْ لِنَسِيبٍ لَهَا يَهُودِيٍّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک یہودی رشتے دار کے لئے وصیت کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3341] »
اس حدیث کی سند سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10812] ، [عبدالرزاق 19342] ، [البيهقي 281/6]
الحكم: إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3331 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ:"أَوْصَى غُلَامٌ مِنَ الْحَيِّ، يُقَالُ لَهُ: عَبَّاسُ بْنُ مَرْثَدٍ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ لِظِئْرٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ بِأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ، جَازَتْ وَإِنَّمَا أَوْصَى لِذِي حَقٍّ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَنَا أَقُولُ بِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابواسحاق نے کہا: قبیلے کے ایک سات سالہ لڑکے نے جس کا نام عباس بن مرثد تھا، اپنی اہل حيرة میں سے یہودی دایہ کے لئے چالیس درہم دینے کی وصیت کی تو قاضی شریح نے کہا: جب لڑکا اپنی وصیت میں حق بجانب ہو تو وہ وصیت جائز ہے، اس نے صاحب حق کے لئے ہی وصیت کی۔ امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں بھی یہی کہتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى أبي إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 3342] »
اس اثر کی سند ابواسحاق تک صحیح ہے۔ تخریج رقم (3316) میں گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3323 سے 3331)
اہلِ ذمہ وہ غیر مسلم ہیں جو اسلامی حکومت کے زیرِ امان ہوں، اگر ان کا کوئی رشتہ دار مسلمان ہو تو وہ ان کے لئے وصیت کر سکتا ہے اور یہ وصیت جاری و ساری ہوگی جیسا کہ اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اور عباس بن مرثد کے یہودی کو وصیت دینے سے پتہ چلتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح إلى أبي إسحاق