بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب کوئی شخص اس طرح وصیت کرے: میرے غلاموں میں سے ایک میرے مرنے کے بعد آزاد ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل جب کوئی شخص اس طرح وصیت کرے: میرے غلاموں میں سے ایک میرے مرنے کے بعد آزاد ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3301 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"فِي رَجُلٍ قَالَ: أَحَدُ غُلَامَيَّ حُرٌّ ثُمَّ مَاتَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ، قَالَ: الْوَرَثَةُ بِمَنْزِلَتِهِ يُعْتِقُونَ أَيَّهُمَا أَحَبُّوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی یہ کہے: میرے دو غلاموں میں سے ایک آزاد ہے اور تعیین کرنے سے پہلے وہ مر جائے، تو شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اس وصیت کرنے والے کے وارث اس کی جگہ لیں گے اور ان دونوں میں سے جس کو اچھا جانیں آزاد کر دیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى الشعبي حسن من أجل أبي بكر بن عياش، [مكتبه الشامله نمبر: 3312] »
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک ابوبکر بن عياش کی وجہ سے حسن ہے۔ اور مطرف: ابن ظریف ہیں، اس سیاق سے یہ روایت کہیں نہیں ملی، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 11014، 11017] میں ہے۔ بعض روایات میں «أَحَبُّوْا» کی جگہ «خَيْرٌ» ہے۔
الحكم: إسناده إلى الشعبي حسن من أجل أبي بكر بن عياش