بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرے تو؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرے تو؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3299 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ هِشَامٍ الرَّاسِبِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَا: سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ"الرَّجُلِ يُوصِي فِي غَيْرِ قَرَابَتِهِ، فَقَالَ سَالِمٌ: هِيَ حَيْثُ جَعَلَهَا، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ: يُرَدُّ عَلَى الْأَقْرَبِينَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شیبہ بن ہشام راسبی اور کثیر بن معدان دونوں نے کہا: ہم نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا: کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرتا ہے؟ سالم نے کہا: جیسے کہا نافذ ہو گی، ہم نے کہا: حسن رحمہ اللہ تو ایسی وصیت کو رشتے داروں کی طرف لوٹا دیتے ہیں، اس پر سالم نے سخت نکیر کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولم أقف عليه كاملا وبهذا اللفظ، [مكتبه الشامله نمبر: 3310] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور ابن ابی شیبہ نے متفرق مقامات پر اسے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10825، 10827، 10831، 10834] و [ابن منصور 355]
الحكم: إسناده صحيح ولم أقف عليه كاملا وبهذا اللفظ
حدیث نمبر: 3300 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو شِهَابٍ ، عَمْرٍو ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فِي قَرَابَتِهِ، فَهُوَ لِأَقْرَبِهِمْ بِبَطْنٍ: الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جب کوئی آدمی کسی قرابت دار کے لئے وصیت کرے تو وہ قبیلے میں سب سے قریب کے لئے ہے اور مرد و عورت اس میں سب برابر ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3311] »
اس اثر کی سند عمرو بن عبید معتزلی کی وجہ سے ضعیف ہے، اسی طرح کی روایت (3265) میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف