بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی اس طرح وصیت کرے کہ یہ فلاں کے لئے ہے وہ مر جائے تو فلاں کے لئے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل کوئی آدمی اس طرح وصیت کرے کہ یہ فلاں کے لئے ہے وہ مر جائے تو فلاں کے لئے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3297 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:"في رجل قَالَ: سَيْفِي لِفُلَانٍ، فَإِنْ مَاتَ فُلَانٌ، فَلِفُلَانٍ، فَإِنْ مَاتَ فُلَانٌ، فَمَرْجِعُهُ إِلَيَّ، قَالَا: هُوَ لِلْأَوَّلِ". قَالَ: وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: يُمْضَى كَمَا قَالَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن اور سعید بن المسيب رحمہما اللہ نے کہا: کوئی آدمی یہ کہے کہ میری تلوار فلاں آدمی کے لئے ہے اور اگر وہ مر جائے تو فلاں کے لئے، اگر وہ بھی مر جائے تو میری طرف لوٹ آئے گی، دونوں نے کہا: وہ پہلے آدمی کے لئے ہو گی، اور حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا: جس طرح وصیت کی ہے ویسے ہی جاری ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3308] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10807، 10808، 10809]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3298 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: أَنَّ عُرْوَةَ، قَالَ:"فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ: هُوَ لَكَ، فَإِذَا مُتَّ، فَلِفُلَانٍ، فَإِذَا مَاتَ فُلَانٌ، فَلِفُلَانٍ، وَإِذَا مَاتَ فُلَانٌ، فَمَرْجِعُهُ إِلَيَّ. قَالَ: يُمْضَى كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانُوا مِائَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن عروة نے بیان کیا کہ عروہ نے کہا: کوئی آدمی کسی آدمی کو عطیہ دے اور کہے کہ یہ تمہارے لئے ہے، تم فوت ہو گئے تو فلاں کے لئے، اور فلاں آدمی بھی فوت ہو گیا تو فلاں کے لئے ہے، اور وہ بھی مر گیا تو میری طرف لوٹ آئے گا۔ عروہ نے کہا: جیسے کہا ہے وصیت نافذ ہو گی چاہے سو آدمی کیوں نہ ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3309] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10810]
الحكم: إسناده صحيح