بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مال دار کے لئے وصیت کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل مال دار کے لئے وصیت کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3296 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ،"سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى وَلَهُ أَخٌ مُوسِرٌ، أَيُوصِ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كَانَ رَبَّ عِشْرِينَ أَلْفًا، ثُمَّ قَالَ: وَإِنْ كَانَ رَبَّ مِائَةِ أَلْفٍ، فَإِنَّ غِنَاهُ لَا يَمْنَعُهُ الْحَقَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید سے مروی ہے، حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کوئی آدمی اپنے مال دار بھائی کے لئے وصیت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں کر سکتا ہے، چاہے وہ بھائی بیس ہزار کا مالک ہو، پھر کہا: یا ایک لاکھ کا مالک ہو، اس کی مال داری اس حق سے محروم نہ کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3307] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 378 من طريق هشيم، قال: أخبرنا حميد الطويل بهذا الإسناد]
وضاحت
(تشریح حدیث 3295)
معلوم ہوا کہ وارث کی مالداری کے باوجود کسی بھی غیر وارث شخص کے لئے وصیت کی جا سکتی ہے۔
اور وہ وصیت کے اس مال کو مالدار ہونے کے باوجود لے سکتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح