بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تہائی میں سے بھی بعض کے نزدیک وارثین حصہ لے سکتے ہیں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل تہائی میں سے بھی بعض کے نزدیک وارثین حصہ لے سکتے ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3253 سنن دارمی
أخبرنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: "إِذَا كَانَ الْوَرَثَةُ مَحَاوِيجَ، فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ يُرَدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ الثُّلُثِ"، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْأَوْزَاعِيِّ فَأَعْجَبَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر (مرنے والے کے) وارثین محتاج ہوں تو میرے خیال میں تہائی مال میں سے بھی انہیں حصہ دینے میں کوئی حرج نہیں، یحییٰ نے کہا: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے پسند کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وما وقفت على كلام مكحول، [مكتبه الشامله نمبر: 3264] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن مکحول رحمہ اللہ کا یہ قول کہیں اور نہیں مل سکا۔
الحكم: إسناده صحيح وما وقفت على كلام مكحول