بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب مرنے والا کسی کے لئے آدھے مال اور کسی کے لئے تہائی مال کی وصیت کرے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل جب مرنے والا کسی کے لئے آدھے مال اور کسی کے لئے تہائی مال کی وصیت کرے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3241 سنن دارمی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى لِرَجُلٍ بِنِصْفِ مَالِهِ، وَلِآخَرَ بِثُلُثِ مَالِهِ، قَالَ: يَضْرِبَانِ بِذَلِكَ فِي الثُّلُثِ: هَذَا بِالنِّصْفِ، وَهَذَا بِالثُّلُث".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اشعث سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے ایسے شخص کے بارے میں کہا جس نے کسی آدمی کے لئے آدھے (مال) کی اور کسی دوسرے کے لئے اپنے تہائی (مال) کی وصیت کی، حسن رحمہ اللہ نے کہا: ان دونوں کوثلث (تہائی) میں سے حصہ دیا جائے گا، نصف والے کو نصف اور ثلث والے کو ثلث۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3252] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ محمد بن عبداللہ: انصاری ہیں، اور اشعث: ابن عبداللہ الحدانی ہیں۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3239 سے 3241)
یعنی ایسی صورت میں ایک تہائی مال نکال کر اس میں سے آدھا اور ثلث موصی لہ کو دیا جائے گا۔
الحكم: إسناده صحيح