بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3222 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى وَالْوَرَثَةُ شُهُودٌ مُقِرُّونَ، فَقَالَ: لَا يَجُوزُ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي: إِذَا أَنْكَرُوا بَعْدُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور نے ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کیا، کوئی آدمی (ثلث سے زیادہ) وصیت کرے اور اس کے وارثین شاہد ہوں اور اس کا اقرار کریں؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: (ایسی وصیت) جائز نہیں ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں وہ ناپسند کریں تو ایسی وصیت کی تنفیذ نہ ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3233] »
ابرا ہیم رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوزید کا نام سعید بن الربیع ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 389]
الحكم: إسناده صحيح إلى إبراهيم
حدیث نمبر: 3223 سنن دارمی
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ الحَكَمَ، وَحَمَّادًا:"عَنِ الْأَوْلِيَاءِ يُجِيزُونَ الْوَصِيَّةَ، فَإِذَا مَاتَ لَمْ يُجِيزُوا؟ قَالَا: لَا يَجُوزُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبہ نے کہا: میں نے حکم اور حماد سے اولیاء (وارثین) کے بارے میں پوچھا کہ وہ وصیت کی اجازت دیتے ہیں اور جب (آدمی) مر جائے تو وصیت نہیں مانتے؟ دونوں نے کہا: (یہ) جائز نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحكم بن عتيبة، [مكتبه الشامله نمبر: 3234] »
حکم بن عتبہ اور حماد بن ابی سلیمان تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10777] ، [ابن منصور 391]
وضاحت
(تشریح احادیث 3221 سے 3223)
یعنی ثلث سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحكم بن عتيبة
حدیث نمبر: 3224 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحٍ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِهِ، قَالَ: إِنْ أَجَازَتْهُ الْوَرَثَةُ، أَجَزْنَاهُ، وَإِنْ قَالَتِ الْوَرَثَةُ: أَجَزْنَاهُ، فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِذَا نَفَضُوا أَيْدِيَهُمْ مِنْ الْقَبْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے مروی ہے، (قاضی) شریح نے کہا: کوئی آدمی ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے، اگر اس کے وارثین اجازت دیں تو ہم بھی اس کی اجازت دیں گے، اور اگر وارثین کہیں کہ ہم نے اس کی اجازت دی تب بھی مٹی دینے کے بعد انہیں اختیار ہے۔ (یعنی چاہیں تو برقرار رکھیں اور چاہیں تو رفض کر دیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شريح، [مكتبه الشامله نمبر: 3235] »
قاضی شریح تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10772] ، [عبدالرزاق 16449] ، [ابن منصور 388] ، [اخبار القضاة 264/2]
الحكم: إسناده صحيح إلى شريح
حدیث نمبر: 3225 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي عَوْنٍ ، الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ:"أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، فَأَذِنُوا لَهُ، ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ، فَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَذَا التَّكَرُّهُ لَا يَجُوزُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم سے مروی ہے، ایک آدمی نے اپنے وارثین سے پوچھا کہ ایک تہائی سے زیادہ کی وہ وصیت کر دے، وارثین نے اس کو اجازت دے دی، پھر انہوں نے اس کی موت کے بعد اجازت سے رجوع کر لیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: یہ زبردستی جائز نہیں ہے۔ (یعنی ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت میں زبردستی کرنا جائز نہیں ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3225]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة المسعودي، [مكتبه الشامله نمبر: 3236] »
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عتبہ المسعودی کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ ابونعیم کا نام فضل بن دکین ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10781] ، [مجمع الزوائد 7183]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة المسعودي
حدیث نمبر: 3226 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ فَرَضِيَ الْوَرَثَةُ، قَالَ: هُوَ جَائِزٌ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَجَزْنَاهُ يَعْنِي فِي الْحَيَاةِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے ایسے آدمی کے بارے میں کہا جو ثلث (تہائی) سے زیادہ وصیت کرے اور وارثین اس پر راضی ہوں، کہا: یہ جائز ہے۔ امام دارمی ابو محمد رحمہ اللہ نے کہا: جائز ہے لیکن اس کی زندگی میں ہی (مرنے کے بعد نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3237] »
ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ہشام: ابن حسان ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10775] ، [عبدالرزاق 16452] ، [سعيد بن منصور 392، 393] ، [طبراني 271/9، 9161]
وضاحت
(تشریح احادیث 3223 سے 3226)
اپنے مال میں ایک ثلث تک کی وصیت کسی نیک کام کے لئے کرنا جائز ہے، ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنے کی شریعت میں ممانعت ہے، جیسا کہ اگلے باب میں تفصیل سے آ رہا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ثلث سے زیادہ خرچ کرے تو یہ جائز ہے، اگر فوت ہو جائے اور وارثین راضی ہوں تب بھی ایسی وصیت کی تنفیذ ہوگی، اگر راضی نہ ہوں تو تنفیذ روک دی جائے گی۔
مذکور بالا آثار و اقوال کا خلاصہ یہی ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن