بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب کوئی آدمی مر جائے اس کے عصبہ بھی نہ ہوں تو وارث کون ہو گا؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان جب کوئی آدمی مر جائے اس کے عصبہ بھی نہ ہوں تو وارث کون ہو گا؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3207 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي سَهْمُ بْنُ يَزِيدَ الْحَمْرَاوِيُّ:"أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ، فَكُتِبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَكَتَبَ: أَنْ اقْتَسِمُوا مِيرَاثَهُ عَلَى مَنْ كَانَ يَأْخُذُ مَعَهُمْ الْعَطَاءَ، فَقُسِمَ مِيرَاثُهُ عَلَى مَنْ كَانَ يَأْخُذُ مَعَهُمْ الْعَطَاءَ فِي عِرَافَتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سہم بن یزید حمراوی نے خبر دی کہ ایک آدمی مر گیا اور اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا، انہوں نے اس بارے میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا جو اس وقت خلیفہ تھے، انہوں نے جواب دیا کہ اس کی میراث اس کو دی جائے جو اس کے ساتھ وظیفہ لیتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی نگرانی میں اس کی میراث ان کے درمیان تقسیم کر دی جو اس کے ساتھ وظیفہ لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3218] »
اس اثر کی سند جید ہے، کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی، اس کے مماثل اثر کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 16173]
الحكم: إسناده جيد