بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ولاء کو بیچنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان ولاء کو بیچنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 3189 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3200] »
اس حدیث کی سند صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2535] ، [مسلم 1506] ۔ نیز یہ حديث (2614) نمبر پرگذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3188)
ولاء کی تفصیل پیچھے «كتاب البيوع، باب النهي عن بيع الولاء» میں گذر چکی ہے، اور یہ وہ تعلق ہے جو غلام کو آزاد کرنے کے بعد مالک سے برقرار رہتا ہے، اور آزاد کرنے والا اس غلام کا عصبہ قرار پاتا ہے اور مالک اس کی میراث کا حق دار ہوتا ہے، اور غلام کی آزادی تدبیر، مکاتب، یا جس صورت میں بھی ہو اس کا ولاء مالک کے لئے ہوتا ہے جو نہ بیچا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ یہ ایک نسبت ہے اور نسبت فروخت کی جانے والی چیز نہیں ہے اور نہ کسی حال میں اسے ہبہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3190 سنن دارمی
مُسْلِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:"أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر ترجمہ کیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3201] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3191 سنن دارمی
يَعْلَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: "لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ وَلَا يُوهَبُ، وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ولاء نہ بیچا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اور ولاء اس کے لئے ہے جس نے (غلام کو) آزاد کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3202] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 506، 11657] ، [عبدالرزاق 16145] ، [البيهقي 294/10]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3192 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ولاء نسب کے تعلق کی طرح ایک تعلق ہے، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات ولكن جعفر بن عون ما عرفنا له سماعا قديما من سعيد بن أبي عروبة، [مكتبه الشامله نمبر: 3203] »
اس اثر کی سند میں کچھ کلام ہے، لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 507، 11656] ، [عبدالرزاق 16142] ، [سنن سعيد بن منصور 278] ، [البيهقي 294/2] و [الحاكم 7990 مرفوعًا عن النبى صلى الله عليه و آله وسلم وقال: صحيح الإسناد] ۔ اس روایت کی سند میں سعید: ابن ابی عروبہ ہیں، اور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے
الحكم: رجاله ثقات ولكن جعفر بن عون ما عرفنا له سماعا قديما من سعيد بن أبي عروبة
حدیث نمبر: 3193 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُسْلِم، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:"أنهما كرها بيع الولاء".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ (بن دعامہ) نے کہا: حسن اور سعید بن المسیب رحمہما اللہ نے ولاء کے بیچنے کو ناپسند کیا ہے (یعنی مکروہ سمجھا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3204] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 510] ، [عبدالرزاق 16149] ، [ابن منصور 284] ۔ ہمام: ابن یحییٰ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3194 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "لَا يُبَاعُ الْوَلَاءُ، أَيُؤْكَلُ بِرَقَبَةِ رَجُلٍ مَرَّتَيْنِ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ولاء کو بیچا نہیں جائے گا، کیا کسی آدمی کی گردن دو بار کھائی جائے گی؟ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح فقد صرح ابن جريج عند عبد الرازق بالتحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 3205] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16144] ۔ نیز یہ قول مختصراً (3191) پر گذر چکا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3189 سے 3194)
ان تمام احادیث و آثار سے ثابت ہوا کہ ولاء کا بیچنا اور ہبہ کرنا جائز نہیں ہے، بنابریں یہ تعلق بیع و ہبہ کے ذریعہ کسی اور کی طرف منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، اور ولاء میں آزاد کرنے والا مرد یا عورت اپنے آزاد کردہ غلام یا لونڈی کا وارث ہوگا، اور آزاد کرنے والا موجود نہیں تو اس کے عصبہ نسبی وارث ہوں گے وہ بھی مرد، عورتیں وارث نہ ہوں گی۔
کما تقدم۔
الحكم: إسناده صحيح فقد صرح ابن جريج عند عبد الرازق بالتحديث