بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غلام مکاتب کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان غلام مکاتب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3035 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ مِيرَاثٌ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کے لئے میراث نہیں ہے جب تک کہ اس کے اوپر معاہدے کے مطابق رقم چکانا باقی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3035]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3045] »
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ اور مغیرہ: ابن مقسم ہیں، یہ اثر کہیں اور نہیں مل سکی۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3034)
مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس سے اس کے مالک نے مالِ معین ادا کرنے کی شرط پر آزاد کرنے کا معاہدہ کیا ہو، تو جب تک وہ مال پورا ادا نہ کر دے، نہ آزاد ہوگا، نہ میراث پائے گا۔
الحكم: إسناده صحيح إلى إبراهيم
حدیث نمبر: 3036 سنن دارمی
يَعْلَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ:"فِي رَجُلٍ لَهُ بَنُونَ قَدْ أَعْتَقَ مِنْ بَعْضِهِمْ النِّصْفَ، وَمِنْ بَعْضٍ الثُّلُثَ، وَمِنْ بَعْضٍ الرُّبُعَ، قَالَ: لَا يَرِثُونَ حَتَّى يُعْتَقُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے مروی ہے کہ اس آدمی کے بارے میں جس کے بیٹے غلام ہوں جن میں سے بعض تہائی اور بعض چوتھائی آزاد ہوئے ہوں۔ عطاء نے کہا: جب تک کہ پوری طرح آزاد نہ کر دیئے جائیں (باپ کے) وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3036]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3046] »
اس اثر کی سند عطاء تک صحیح ہے جو عطاء بن مسلم ہیں، اور یعلی: ابن عبید، عبدالملک: ابن ابی سلیمان ہیں۔ اس اثر کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 614] ، [عبدالرزاق 15722] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [البيهقي 342/10]
الحكم: إسناده صحيح إلى عطاء
حدیث نمبر: 3037 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عبد الله بن جعفر الرقي، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي رَجُلٍ اشْتَرَى ابْنَهُ فِي مَرَضِهِ، قَالَ: إِنْ خَرَجَ مِنْ الثُّلُثِ وَرِثَهُ، وَإِنْ وَقَعَتْ عَلَيْهِ السِّعَايَةُ لَمْ يَرِثْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے مرض (الموت) میں اپنے بیٹے کو خریدا اور وہ ایک تہائی سے نکل چکا ہو، تو وہ (بیٹا باپ کا) وارث ہوگا اور اگر ابھی مال مقرر دینا باقی ہو تو وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3047] »
0
الحكم: إسناده صحيح إلى إبراهيم
حدیث نمبر: 3038 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "حَدُّ الْمُكَاتَبِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ، حَتَّى يُعْتَقَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کی حد مملوک (یعنی پورے غلام) کی حد ہے یہاں تک کہ وہ آزاد کر دیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3048] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حسن: ابن صالح ہیں، اور اس کے والد صالح: ابن مسلم، اور ابونعیم: فضل بن دکین ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8239] ، [شرح معاني الآثار 111/3] ، [المحلی لابن حزم 228/9]
وضاحت
(تشریح احادیث 3035 سے 3038)
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25] »
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم: إسناده صحيح