بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہما کا قول جدات کے بارے میں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہما کا قول جدات کے بارے میں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2973 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْأَشْعَثُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٍّ ، وَزَيْدٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدٍ قَالَا: "إِذَا كَانَتْ الْجَدَّاتُ سَوَاءً، وَرِثَ ثَلَاثُ جَدَّاتٍ جَدَّتَا أَبِيهِ أُمُّ أُمِّهِ، وَأُمُّ أَبِيهِ، وَجَدَّةُ أُمِّهِ، فَإِنْ كَانَتْ إِحَدَاهُنَّ أَقْرَب، فَالسَّهْمُ لِذَوِي الْقُرْبَى.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے کہا: جب جدات ایک جیسی ہوں تو تین جدات وارث ہوں گی، دو تو باپ کی جدات یعنی باپ کی ماں اور باپ کی ماں کی ماں، تیسرے اس کی ماں کی دادی، ان میں سے جو بھی اقرب ہوگی تو «سهم ذوي القربي» کا ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2982] »
اس اثر کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے طرق بھی ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11343] ، [عبدالرزاق 19090] ، [ابن منصور 84، 100] ، [البيهقي 236/6-237] ، [ابن حزم 275/9]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
حدیث نمبر: 2974 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَسَنٌ ، أَشْعَثَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٍّ ، وَزَيْدٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدٍ:"أَنَّهُمَا كَانَا لا يُوَرِّثَانِ الْجِدَّةَ أُمَّ الأَبِ مَعَ الأَبِ". [إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ «كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْجَدَّةَ وَابْنُهَا حَيٌّ» [إسناده صحيح إلى الزهري]
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
(ابن شہاب) زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے بیٹے کی موجودگی میں وراثت کا حصہ نہ دیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2983، 2984] »
اس اثر کی سند امام زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11358] ، [عبدالرزاق 19091] ، [البيهقي 225/6-226]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار