بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنت تکالیف کے ساتھ گھیر دی گئی ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان جنت تکالیف کے ساتھ گھیر دی گئی ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2877 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت ایسی چیزوں سے گھیر دی گئی ہے جو نفس کو ناگوار ہیں، اور جہنم گھیر دی گئی نفسانی خواہشات سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2885] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2822] ، [ترمذي 2559] ، [أبويعلی 3275] ، [ابن حبان 716] ، [أبونعيم فى صفة الجنة 42]
وضاحت
(تشریح حدیث 2876)
«مكاره» سے مراد وہ امور ہیں جن کے بجا لانے پر یا ترک کر دینے کا مسلمان کو حکم دیا گیا ہے، اور وہ امور نفسِ انسانی پر سخت ناگوار اور مشکل ہوتے ہیں، جیسے عبادت ریاضت، عبادات پر مواظبت، ان کی مشقتوں پر صبر، غصہ روکنا، عفو و حلم، صدقہ و جہاد، یہ سارے امور بجا لانا نفس پر شاق ہوتا ہے، اور جنّت انہیں امور کو بجا لانے سے ملتی ہے، اور شہوات سے مراد وہ امور ہیں جن سے شریعت میں منع کیا گیا، اور نفسِ انسانی اس میں لذت محسوس کرے اور اس کی خواہش کرے، جیسے شراب خوری، زنا، اجنبی عورت کو گھورنا، غیبت، جھوٹ، کھیل کود جو نماز سے غافل کر دیں، اور دیگر لہو و لعب، گانے، میوزک وغیرہ، یہ سب مستلذات و شہوات میں سے ہیں اور نفس ان کی طرف بری طرح مائل ہوتا ہے، ان امور کے ارتکاب سے جہنم ملتی ہے، یعنی عباداتِ شاقہ کے بجا لانے سے جنّت اور شہواتِ نفسانیہ سے جہنم کا آدمی مستحق ہو جاتا ہے۔
«واللّٰه أعلم و علمه أتم.»
الحكم: إسناده صحيح