بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نہر کوثر کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان نہر کوثر کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2871 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، يَجْرِي عَلَى الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ، تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَطَعْمُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب « ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ » نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی نہر ہے جس کے کنارے سونے کے بنے ہوئے ہیں، موتی اور یاقوت پر بہتی ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار، اور اس کا مزہ شہد سے زیادہ میٹھا، اور پانی برف سے زیادہ سفید (وشفاف) ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبو عوانة متأخر السماع من عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 2879] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3361] ، [ابن ماجه 4334] ، [أحمد 112/2] ، [الحاكم 524/2، ويشهد له حديث أنس المتفق عليه بخاري 4964] ، [مسلم 162] و [أبويعلی 2876]
وضاحت
(تشریح حدیث 2870)
نہرِ کوثر جنّت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا کی جائے گی جس کا وصف مذکور بالا حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اور حوضِ کوثر قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا ہوگا، جو ایک بار اس کا پانی پی لے گا پیاسا نہ رہے گا، اس کا پانی نہرِ کوثر سے ہی آ رہا ہوگا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے امتیوں کو بلا بلا کر پانی پلائیں گے، کچھ لوگوں کو فرشتے وہاں سے ڈھکیلیں گے اور حوض پر نہ آنے دیں گے اور کہیں گے: آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا بدعتیں ایجاد کر لی تھیں۔
الله تعالیٰ ہمیں سنّت کا شیدائی بنائے اور بدعت سے دور رکھے تاکہ حوضِ کوثر سے پانی پینا نصیب ہو، آمین۔
الحكم: إسناده ضعيف أبو عوانة متأخر السماع من عطاء