بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سب سے کم درجہ کے جنتی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان سب سے کم درجہ کے جنتی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2864 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ ذَاكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ. إِلَّا أَنَّهُ يُلَقَّى سِوَى كَذَا وَكَذَا، فَيُقَالُ لَهُ: ذَاكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَيُقَالُ لَهُ: ذَاكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ادنیٰ درجہ کا جنتی وہ ہوگا جو الله تعالیٰ سے تمنا کرے گا اور اس سے کہا جائے گا: تمہارے لئے اتنا ہے جتنی تم نے آرزو کی اور مزید اسی کے مثل، اور اس کو کہا جائے گا (ایک روایت ہے تلقین کی جائے گی) کہ ایسا اور ایسا اور مانگو، اور جواب میں اس سے کہا جائے گا: یہ جو طلب کیا وہ اور اسی کے مثل مزید اور تمہارے لئے ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا: یہ اور اس جیسا دس گنا اور تمہارے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2871] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن اس حدیث کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ دیکھئے: [مسلم 182] ، [أحمد 450/2] ، [ابن أبى شيبه 15846] ، [شرح السنة 4370] ، [أبويعلی 6360] ، [ابن حبان 4642] ، [الحميدي 1212] ، [وفي حديث طويل فى البخاري 806]
وضاحت
(تشریح حدیث 2863)
یہ ادنیٰ درجہ کے جنتی کا حال ہے کہ اس سے کہا جائے گا: کسی کی بھی تمنا کرو، وہ تمنا کرے گا تو اس کے مثل بلکہ دس گنا اور زیادہ عطا فرمایا جائے گا، یہ الله تعالیٰ کی رحمت، اپنے بندوں سے محبت اور عطاء و بخشش سے کچھ بعید نہیں۔
الحكم: إسناده حسن