بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنت میں تمہارے کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان جنت میں تمہارے کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2855 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185" الْآيَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تم سے کسی کے کوڑے کی جگہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: « ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ . . . . . . .﴾ » (آل عمران: 185/3) ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے پورے پورے اجر دیئے جاؤگے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے، اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیاوی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2862] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2796] ، [ترمذي 3013] ، [ابن حبان 7417] ، [أبويعلي 6316، 7514]
وضاحت
(تشریح احادیث 2853 سے 2855)
اس حدیث میں جنّت کی قدر و قیمت بیان کی گئی ہے، اور آیتِ شریفہ میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، دوسرے یہ کہ دنیا میں جس نے بھی اچھا برا جو کچھ کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا سے بہت بڑا اور تصور سے بہت زیادہ ہوگا، تیسرے کامیابی کا معیار اس میں بتلایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ جہنم سے دور اور جنّت میں داخل کر دیا گیا، چوتھے یہ کہ دنیا کی زندگی سامانِ فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام و نامراد ہے۔