بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آگ سے ڈرانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان آگ سے ڈرانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2847 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: "أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ"فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا، لَسَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ، حَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطبہ دیتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو (جہنم کی) آگ سے آگاہ کر دیا ہے، میں نے تم کو آگ سے ڈرایا ہے، میں نے تم کو آگ سے چوکنا کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار اس کلمے کو دہراتے رہے یہاں تک کہ اگر میری جگہ پر سارے بازار والے بھی موجود ہوتے تو سن لیتے اور یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر آپکے پیروں میں گر پڑی۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2854] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 644] ، [موارد الظمآن 2490] و [الطيالسي فى منحة المعبود 693] ، [مجمع الزوائد 3169]
وضاحت
(تشریح حدیث 2846)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عذابِ جہنم اور عذاب النار سے ڈرایا کہ لوگ اللہ کی نافرمانی اور کفر و شرک سے دور رہیں ورنہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے، اسی طرح قرآن پاک میں بھی ہے: «﴿فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى﴾ [الليل: 14] » یعنی میں نے تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے آگاہ کر دیا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه وإياكم منها)»
الحكم: إسناده جيد