أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي بِغَيْرِ حِسَابٍ". فَقَالَ عُكَّاشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا، فَقَالَ آخَرُ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ:"سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے“، سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! دعا کردیجئے اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے، آپ نے دعا فرما دی، ایک دوسرے شخص نے کہا: میرے لئے بھی دعا فرمادیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2849] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5811] ، [مسلم 216] ، [ابن حبان 7244] ، [أبويعلی 2842] و [أبوعوانه 140/1]
وضاحت
(تشریح حدیث 2841)
دوسرے دعا کی درخواست کرنے والے صحابی سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے دعا کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے عکاشہ کی دعا قبول ہو چکی، مطلب یہ تھا کہ دعا کی قبولیت کی گھڑی نکل چکی، یہ کامیابی و سعادت سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی قسمت میں تھی جو ان کو حاصل ہوگئی، ایسا کہنے کی الله تعالیٰ کی طرف سے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ملی ہوگی۔
الحكم: إسناده صحيح