بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہر نبی کو ایک دعا کا حق تھا
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان ہر نبی کو ایک دعا کا حق تھا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2840 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے، میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو میں اپنی دعا کو چھپا رکھوں قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2847] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6304] ، [مسلم 198] ، [ابن حبان 6461]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2841 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مثلِ سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2848] »
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2839 سے 2841)
ان دونوں حدیثوں سے پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنی امت سے رحمت و شفقت اور محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رب العالمین کی طرف سے ایک دعا کا اختیار ملا جو شرفِ قبولیت حاصل کر چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا علم بھی ہے، لیکن نہ اپنی ذات کے لئے نہ اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ مانگتے ہیں بلکہ اس دعا کا حق بھی امت کے حق میں محفوظ رکھ لیتے ہیں، فداه ابی و امی، اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنے کا اہل بنائے۔
(آمین)۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه