بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صور پھونکنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان صور پھونکنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2833 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ ، بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصُّورِ، فَقَالَ: "قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2840] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4742] ، [ترمذي 3244] ، [ابن حبان 7312] ، [موارد الظمآن 2570]
وضاحت
(تشریح حدیث 2832)
قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا جس سے سارے جان دار مر جائیں گے، اور پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا جس سے سارے لوگ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے سب زندہ ہو جائیں گے اور حشر میں الله تعالیٰ کے سامنے سب کا حساب و کتاب ہوگا۔
قرآن پاک میں بھی اس کا تذکرہ ہے: «﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزمر: 68] » ترجمہ: اور صور پھونک دیا جائے گا، پس آسمانوں اور زمینوں والے سب بے ہوش ہو کر گر جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔
الحكم: إسناده صحيح