بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حسن اخلاق کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان حسن اخلاق کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2826 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو جہاں کہیں بھی ہو، اور برائی سرزد ہونے کے بعد نیکی کرو جو برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے ملو۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات لكن ابن أبي حاتم، [مكتبه الشامله نمبر: 2833] »
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ترمذي 1988، وقال: حسن صحيح] ، [أحمد 153/5] ، [طبراني 145/20، 395] ، [القضاعي 652] ، [شعب الايمان 8026]
وضاحت
(تشریح حدیث 2825)
اس حدیث میں تقویٰ کی تعلیم ہے اور برائی کے سرزد ہونے کے بعد بطورِ کفاره نیکی کرنے کا حکم اور حسنِ اخلاق کی تعلیم ہے۔
الحكم: رجاله ثقات لكن ابن أبي حاتم
حدیث نمبر: 2827 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ هُوَ: ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ: ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان، [مكتبه الشامله نمبر: 2834] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4682] ، [ترمذي 1162] ، [ابن حبان 479] ، [موارد الظمآن 1926، وله شواهد عندهم عن أبى الدرداء]
وضاحت
(تشریح حدیث 2826)
اس حدیث میں ایمان اور حسنِ اخلاق کے درمیان تلازم کا بیان ہے، یعنی جو اخلاق میں جتنا کامل ہوگا ایمان میں بھی اتنا ہی کامل ہوگا، گویا کمالِ ایمان کے لئے حسنِ اخلاق میں کمال ضروری ہے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے اہل کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان