بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نیکی اور بدی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان نیکی اور بدی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2824 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ هُوَ: ابْنُ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الْقَاضِي ، النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ هُوَ: ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الْقَاضِي، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ: "الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَعْلَمَهُ النَّاسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نیکی اور بدی (گناہ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تمہیں ناگوار گذرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 2831] »
اس روایت کی سند میں انقطاع کے سبب ضعف ہے، لیکن یہ حدیث صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2553] ، [ابن حبان 397] ، [معجم الصحابة لابن قانع 1138] ، [المعرفة و التاريخ للفسوي 339/2]
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2825 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مذکور بالا حدیث مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2832] »
ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر مذکور ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2823 سے 2825)
اسلام میں حسنِ اخلاق کی بڑی فضیلت ہے، یہاں نیکی کی تعریف میں حسنِ اخلاق کا ذکر کر کے بڑے بلیغ انداز میں اچھے کاموں کی تعلیم دی دی گئی ہے، اور خندہ پیشانی و مسکراہٹ بھرے چہرے سے ملنا، لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانا بلکہ ان کو آرام و سہولت پہنچانے کی سعی کرنا، لوگوں کے کام آنا اور نیکی کے کاموں میں تعاون کرنا، کشادہ دستی سے کام لینا، الله اور رسول کی اطاعت و پیروی، یہ سب نیکیاں اور خوبیاں ہیں جو انسان کی زندگی میں نکھار پیدا کرتی ہیں، اور برائی و بدی کی تعریف میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ برائی یہ ہے کہ ایک تو انسان کے دل میں کھٹک پیدا ہو، یعنی اطمینان و سرور کے بجائے قلق و اضطراب اور گھبراہٹ ہو، دوسرے یہ کہ کسی کا اس سے باخبر ہونا وہ پسند نہ کرے یہ برائی کی بہت جامع تعریف ہے، جس میں صغیرہ کبیرہ سب گناه آجاتے ہیں۔
اس حدیث میں اس امر پر بھی دلیل ہے کہ انسانی فطرت (اگر برے ماحول اور صحبتِ بد کی وجہ سے مسخ نہ ہوئی ہو تو) انسان کی صحیح بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے۔
(شرح رياض الصالحین، حافظ صلاح الدین حفظہ الله)۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه