بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اگر ابن آدم کے لئے مال کی دو وادیاں ہوں تب بھی
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان اگر ابن آدم کے لئے مال کی دو وادیاں ہوں تب بھی
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2813 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: "لَوْ كَانَ، لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتا تھا اور جانتا نہیں تھا کہ یہ وحی کے الفاظ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: اگر آدمی کے پاس مال سے بھری دو وادیاں ہوں تب بھی وہ تیسری وادی کی تلاش میں رہے گا، اور آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا مگر مٹی سے، اور الله تعالیٰ رجوع کرتا ہے اس کی طرف جو توبہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2820] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6439] ، [نحوه مسلم 1048] ، [مثله أبويعلی 2849] ، [ابن حبان 3235، و له شواهد]
وضاحت
(تشریح حدیث 2812)
مسلم شریف میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ایسے ہی مروی ہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں، اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اس سے اس حدیث کی اہمیت واضح ہوتی ہے، اور دنیا کی مذمت و کراہت، اور انسان کی فطرت کہ اس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں ہے، ہمیشہ ھل من مزید کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے، تا آنکہ موت اور مٹی سے اس کا پیٹ بھرتا ہے۔
سورۂ تکاثر کے نزول سے پہلے اس عبارت کو قرآن کی طرح تلاوت کیا جاتا رہا، پھر جب «﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾» نازل ہوئی تو اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی، مضمون ایک ہی ہے جس میں انسان کی حرص و طمع کا بیان ہے۔
(مولانا راز رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده صحيح