بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مومن کے لئے ہر چیز میں اجر و ثواب ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان مومن کے لئے ہر چیز میں اجر و ثواب ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2812 سنن دارمی
أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، صُهَيْبٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ ضَحِكَ، فَقَالَ:"أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ؟"، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟، قَالَ: "عَجَبًا مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ: إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ، حَمِدَ اللَّهَ عَلَيْهِ، فَكَانَ لَهُ خَيْرٌ، وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ، كَانَ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اچانک ہنس پڑے اور فرمایا: کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ میں کیوں ہنسا؟ صحابہ نے عرض کیا: آپ کس چیز سے ہنس رہے ہیں؟ فرمایا: مومن کا ہر کام عجیب (پسندیدہ) ہے، اگر اس کو ایسی چیز ملتی ہے جسے وہ پسند کرتا ہے تو وہ الله کا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے لئے اچھائی ہے یعنی اس کو ثواب ملتا ہے، اور اگر اسے ایسی چیز پہنچتی ہے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس کے لئے بھلائی ہوتی ہے، اور مومن کے سوا کسی کو یہ چیز حاصل نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل روح بن أسلم. ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2819] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2999] ، [ابن حبان 2896] ، [أبويعلی 4019]
وضاحت
(تشریح حدیث 2811)
اس حدیث میں مؤمن کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خوشی و ناخوشی ہر حال میں راضی برضائے الٰہی رہتا ہے، خوشی نصیب ہو تو شکر کر کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے، مصیبت و پریشانی آتی ہے تو صبر کر کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے، اور کسی حال میں خسارے میں نہیں رہتا۔
الله تعالیٰ ہمیں صبر و شکر کی توفیق بخشے، آمین۔
الحكم: إسناده ضعيف من أجل روح بن أسلم. ولكن الحديث صحيح