بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حرام مال کھانے کی ممانعت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان حرام مال کھانے کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2811 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:"يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنَ سُحْتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے کعب بن عجرۃ! جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا ایسا گوشت جو حرام سے بنا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2818] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 1999] ، [ابن حبان 1723] ، [موارد الظمآن 1569]
وضاحت
(تشریح حدیث 2810)
یعنی جس کی پرورش حرام سے ہو وہ جنّت میں نہ جائے گا، اس حدیث میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے پیغمبرِ اسلام نے ساری امت کو حرام کھانے سے روکا ہے، اور یہ وعیدِ شدید سنائی ہے کہ جس کی رگوں میں حرام خون دوڑ رہا ہو اس سے جو بھی گوشت پرورش پائے گا وہ جہنمی ہوگا، لہٰذا چوری، ظلم، غصب، رشوت یا حرام چیزیں کھانے والا جنّت میں نہ جائے گا۔
الحكم: إسناده قوي