بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنگ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان جنگ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2796 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"أَيْنَ فُلَانٌ؟". فَغَمَزَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: إِنَّهُ، وَإِنَّهُ!، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا؟"، قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے؟ حاضرین میں سے ایک نے اس کو برے الفاظ سے ذکر کیا کہ وہ ایسا ہے ویسا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے؟ عرض کیا: بیشک شریک ہوئے۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ اہلِ بدر کے حالات سے باخبر تھا اور فرمایا: تم جیسے چاہو عمل کرو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم بن بهدلة، [مكتبه الشامله نمبر: 2803] »
اس حدیث کی سند عاصم بن بہدلہ کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4654] ، [أحمد 295/2] ، [أبويعلی 394] ، [ابن حبان 4699] ، [موارد الظمآن 2220] ، [الحميدي 49]
وضاحت
(تشریح حدیث 2795)
یعنی اگر ان سے گناہ بھی سرزد ہوئے تو بخش دیئے جائیں گے، کیونکہ اسلام اور کفر کے درمیان یہ پہلی معرکہ آرائی تھی جس کو یوم الفرقان بھی کہا گیا ہے، حق و باطل اس میں واضح ہو گئے تھے، اس لئے اس میں شرکت کرنے والے صحابہ کی بڑی فضیلت ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم بن بهدلة