بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قیامت کے قریب ہونے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان قیامت کے قریب ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2794 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ"وَأَشَارَ وَهْبٌ بِالسَّبَّاحَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ وہب بن جریر نے اشارہ کیا کلمہ اور بیچ کی انگلی کی طرف۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2801] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6504] ، [مسلم 2951] ، [ترمذي 2214] ، [أبويعلی 2925] ، [ابن حبان 6660] ۔ بخاری شریف میں ہے «كَهَاتَيْنِ» کی تشریح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبابہ اور وسطیٰ کی طرف اشارہ کیا۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2793)
یعنی جس طرح کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی قریب قریب ہیں قیامت بھی ایسے ہی قریب ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں دونوں انگلیوں کی طرح اب کسی نئے پیغمبر و رسول کا فاصلہ نہیں، اور میری امّت آخری امّت ہے، اسی پر قیامت قائم ہوگی۔
نیز یہ کہ قیامت قریب ہے اور اس کی مدت کم باقی ہے۔
(مولانا راز رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده صحيح