بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2792 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَبِي الْحُبَابِ: سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ: سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری بزرگی اور جلالت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، آج کے دن میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2792]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو عند مالك في الشعر، [مكتبه الشامله نمبر: 2799] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2566] ، [مالك كتاب الشعر 13، باب ماجاء فى المتحابين فى الله] و [أحمد 237/2، 535] و [البيهقي 233/10]
وضاحت
(تشریح حدیث 2791)
اللہ کے لئے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محبت الله جل جلالہ کے تعمیلِ حکم اور اس کی رضامندی کے لئے ہو، جیسے دین داروں سے محبت، متقی و پرہیزگاروں سے محبت، عالموں سے محبت وغیرہ، آپس میں باہمی محبت کی فضیلت اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وهو عند مالك في الشعر