بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے دکھاوا کیا اللہ تعالیٰ بھی اس سے دکھاوا کرے گا
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان جس نے دکھاوا کیا اللہ تعالیٰ بھی اس سے دکھاوا کرے گا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2783 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، مَكْحُولًا ، أَبُو هِنْدٍ الدَّارِيُّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هِنْدٍ الدَّارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ، رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: جس نے ریاء و سمعہ کا مقام اختیار کیا اللہ بھی قیامت کے دن اس سے ویسا ہی ریا و سمعہ کا سلوک کرے گا۔ (یعنی قیامت کے دن اس کے کرتوت مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا اور اس کی ریا کاری لوگوں کو سنا دے گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2783]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2790] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 270/5] ، [طبراني 319/22، 803] ، [الدولابي فى الكني 60/1] و [البزار فى كشف الأستار 2026] و [الفسوى فى المعرفة و التاريخ 440/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 2782)
ہر عملِ صالح کے لئے ضروری ہے کہ وہ خالص اللہ کے لئے ہو اور سنّتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق ہو، اگر دکھاوے اور سنانے کے لئے کوئی عمل کیا تو الله تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی عمل کرے گا، یعنی دنیا میں دکھاوا اور سمعہ ایسے عامل کو حاصل ہوگا، لوگ کہیں گے: فلاں نمازی ہے، مجاہد ہے یا قاریٔ قرآن ہے، اور آخر میں الله تعالیٰ خلائق کے سامنے رسوا کر کے اس کے دکھلاوے کا بھانڈا پھوڑ کر جہنم رسید فرمائے گا، کیونکہ اس نے الجزاء من جنس العمل کا قاعدہ بنا دیا ہے، جیسا کرنا ویسا بھرنا، اسی طرح «﴿وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ﴾ [آل عمران: 54] » ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح