بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
روزے پر مداومت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان روزے پر مداومت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2755 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کتنے روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کو روزے کا کوئی ثواب نہیں ملتا، وہ (بھوکے) پیاسے رہتے ہیں، اور کتنے رات میں عبادت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے قیام کا رت جگے (جاگنے) کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2762] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1690] ، [أبويعلی 6551] ، [ابن حبان 3481] ، [الموارد 654]
وضاحت
(تشریح حدیث 2754)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ اور تہجد اس کے شروط، حدود و قیود کے بغیر ادا کئے جائیں تو ان کا فائدہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ روزے دار پیاسا رہے اور تہجد گذار جاگتا رہے۔
روزے اور نماز کا صحیح ثواب حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لغو، رفث، فسق و فجور، ریا و نمود سے پرہیز کیا جائے۔
حدیث میں ہے کہ جو شخص بری بات اور برا عمل نہ چھوڑے الله کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: جب روزہ رکھو تو تمہاری زبان، تمہارے کان، تمہاری آنکھیں بھی روزہ رکھیں، اور تمہارے روزے کا دن اور بنا روزے کا دن ایک جیسا نہ ہو۔
الحكم: إسناده حسن ولكن الحديث صحيح