بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غیبت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان غیبت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2749 سنن دارمی
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: مَا الْغِيبَةُ؟. قَالَ:"ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ". قِيلَ: وَإِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟. قَالَ: "فَإِنْ كَانَ فِيهِ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ، فَقَدْ بَهَتَّهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ غیبت کیا ہے؟ فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جو اسے ناگوار ہو۔ عرض کیا گیا: اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس میں جو تم کہہ رہے ہو وہ عیب موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس میں وہ عیب موجود نہیں تو تم نے اس کو بہتان لگایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2756] »
اس روایت کی سند حسن ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2589] ، [أبوداؤد 4874] ، [ترمذي 1934] ، [أبويعلی 6493] ، [ابن حبان 5758] ، [الموارد 1820]
وضاحت
(تشریح احادیث 2747 سے 2749)
غیبت کرنا حرام ہے، حکمِ الٰہی ہے: «﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ .....﴾ [الحجرات: 12] » (ترجمہ) اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ معلوم ہوا کہ غیبت کرنا مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
«والعياذ باللّٰه» ۔
غیبت اور تہمت و بہتان دونوں ہی بڑے گناہوں میں سے ہیں اس لئے ان سے بچنا چاہیے۔
الحكم: إسناده حسن