بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زبان کی حفاظت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان زبان کی حفاظت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2745 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا. قَالَ: "اتَّقِ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَقِمْ". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ؟. قَالَ: فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتایئے کہ میں کسی اور سے اس کے بارے میں نہ پوچھوں۔ فرمایا: اللہ سے ڈرو اور استقامت اختیار کرو۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کون سی چیز ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا (یعنی اس کو قابو میں رکھو اور اس کی حفاظت کرو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2752] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ديكهئے: [مسلم 38] ، [ترمذي 2410] ، [ابن ماجه 3972] ، [ابن حبان 5698] ، [الموارد 2543]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2746 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي: ابْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي: ابْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ. قَالَ: "قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَوَّفُ عَلَيَّ؟. قَالَ: فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ ثُمَّ قَالَ:"هَذَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی بات بتلایئے جس کو میں مضبوطی سے تھامے رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہو اللہ میرا رب ہے، پھر اسی پر جمے رہو، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو زیادہ ڈر میرے اوپر کس چیز کا ہے؟ سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کا۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2753] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 2747 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟. قَالَ: "مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ (یعنی مسلمانوں میں کون سب سے بہتر ہے؟) فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2754] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن بہت سے طریق سے مروی ہے اس لئے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2503] ، [مسند الشهاب 334] ، [الزهد لابن المبارك 385] ، [شرح السنة 4129] ، [طبراني فى الأوسط 1954] ، [الترغيب 536/3، وغيرهم] ۔ نیز دیکھئے: حديث رقم (2751)
وضاحت
(تشریح احادیث 2744 سے 2747)
ان تمام احادیث سے زبان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ زبان کے سبب انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے اور زبان کی وجہ سے جہنم رسید ہوتا ہے، اس لئے زبان سے اچھی بات نکلنی چاہے، ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
جھوٹ، غیبت، چغلی، بری بات، گالی گلوج، فحش و گندے گانے اور گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔
مزید فصیل آگے آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح