يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، الطُّفَيْلِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ أَخِي عَائِشَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ. فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، وَلَكِنْ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی طفیل سے مروی ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کے ایک شخص سے کہا: تم لوگ بہت اچھے ہو، اگر ماشاء الله وشاء محمد نہ کہو یعنی یہ نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سنا تو فرمایا: ”یہ نہ کہو جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس کے بجائے یہ کہو: جو اللہ چاہے پھر محمد بھی چاہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2734]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2741] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2117، 2118] ، [أحمد 214/1] ، [أبويعلی 4655] ، [ابن حبان 5725] ، [الموارد 1998]
وضاحت
(تشریح حدیث 2733)
بعض روایات میں ہے کہ صرف یہ کہو: «ماشاء اللّٰه» ، اللہ جو چاہے۔
دنیا کا ہر کام مشیتِ الٰہی سے ہوتا ہے، اس میں کسی بھی فرد و بشر کی مشیت کا کوئی دخل نہیں، اس لئے خالق اور مخلوق کے لئے مشیت کو جمع کرنا خلافِ توحید ہے، یعنی شاء الله و شاء فلاں کہنا کسی بھی طرح جائز نہیں۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی نے کہا: تم لوگ شرک کرتے ہو، یوں کہتے ہو جو اللہ چاہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: «ماشاء اللّٰه وشئت» ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔
“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا۔
صرف اتنا کہو: «ماشاء اللّٰه وحده» (جو اکیلا اللہ چاہے)“۔
[ابن ماجه 2118] ۔
الحكم: إسناده صحيح