بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نام تبدیل کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں نام تبدیل کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2732 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادٌ هُوَ: ابْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ: ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ أُمَّ عَاصِمٍ كَانَ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ، "فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا جن کا نام عاصیہ (نافرمان) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام (بدل کر) جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2739] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2139] ، [ابن ماجه 3733] ، [ابن حبان 5819]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2733 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قالَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ، بَرَّةَ، "فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برۃ (بہت نیکوکار) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بدل کر) زینب رکھ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2733]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2740] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6192] ، [مسلم 2141] ، [ابن ماجه 3732] ، [ابن حبان 5830]
وضاحت
(تشریح احادیث 2731 سے 2733)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وہ نام جن کے معانی اچھے نہ ہوں انہیں بدل دینا چاہیے، جیسے عاصیہ، حزن وغیرہ نام ہیں، اسی طرح وہ نام جن میں تزکیہ یا خودنمائی پائی جائے وہ بھی بدل دیئے جائیں۔
جیسے برہ ہے، لوگ کہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نیک و اچھی سمجھتی ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام برہ کے بجائے زینب رکھ دیا۔
الحكم: إسناده صحيح