بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
گھنٹی رکھنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں گھنٹی رکھنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2710 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، سَالِمٍ ، أَبِي الْجَرَّاحِ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ مَوْلَى أَمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "الْعِيرُ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ، لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَة".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں گھنٹی ہو اس کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2717] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2554] ، [أبويعلی 7125] ، [ابن حبان 4700] ، [موارد الظمآن 1492]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2711 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رِفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، أَوْ جَرَسٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ان مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ کتا ہو یا گھنٹی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2718] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2114] ، [أبوداؤد 2555] ، [أبويعلی 6519] ، [ابن حبان 4704]
وضاحت
(تشریح احادیث 2709 سے 2711)
اس حدیث میں بھی فرشتوں کے قریب نہ ہونے سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو گانے، باجے، گھنٹی اور لہو و لعب کی دیگر چیزوں سے دور رہتے ہیں۔
پیچھے گذر چکا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں بھی رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
الحكم: إسناده صحيح