بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چھینکنے والے کو کتنی بار جواب دیا جائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں چھینکنے والے کو کتنی بار جواب دیا جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2696 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، عِكْرِمَةُ هُوَ: ابْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ هُوَ: ابْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَرْحَمُكَ اللَّهُ". ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:"الرَّجُلُ مَزْكُومٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ایاس بن سلمہ نے کہا: میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چھینک آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو یرحمک اللہ کہا، دوبارہ پھر اسے چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندے کو زکام ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2703] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2993] ، [أبوداؤد 5037] ، [ترمذي 2743] ، [ابن ماجه 3714] ، [ابن حبان 603] ، [طبراني 13/7، 6234] ، [ابن السني 245]
وضاحت
(تشریح حدیث 2695)
اس حدیث میں ہے کہ ایک سے زیادہ بار چھینکے تو جواب دینا ضروری نہیں۔
ابن ماجہ میں ہے کہ تین بار جواب دیا جائے، اس سے زیادہ چھینک آئے تو یرحمک اللہ کہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ چھینکنے والا مزکوم ہے، یعنی ایک بار سے زیادہ چھینکنے پر جواب مستحب ہے، واجب نہیں۔
الحكم: إسناده قوي