بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کریں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کریں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2692 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تم دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کرو کیونکہ اس سے اس (تیسرے) کو رنج ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2699] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6290] ، [مسلم 2184/38] ، [أبوداؤد 4852] ، [ترمذي 2825] ، [ابن ماجه 3775] ، [أبويعلی 5114] ، [ابن حبان 583]
وضاحت
(تشریح حدیث 2691)
تیسرے کی موجودگی میں دو آدمیوں کا الگ ایک دوسرے سے سرگوشی کرنا منع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے آدمی کو وہم ہو سکتا ہے کہ اس کی برائی، یا اس کے خلاف تو کوئی پلان یا سازش نہیں کر رہے ہیں، یا اس کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا، اور اس سے اس کے دل کو ٹھیس لگے گی۔
ہاں تین سے زیادہ آدمی ہوں تو چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں حرج نہیں، لیکن انسان کو مظان الریب والشک سے بچنا چاہیے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ﴾ [المجادلة: 10] » کانا پھوسی شیطانی کام ہے۔
الحكم: إسناده صحيح