بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں کوئی آدمی اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2688 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ يَعْنِي: أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے تاکہ خود وہاں بیٹھ جائے، ہاں جگہ دے دو یا مجلس میں کشادگی رکھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2695] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6269، 6270] ، [مسلم 2177] ، [أبوداؤد 4828] ، [ترمذي 2749] ، [ابن حبان 586] ، [الحميدي 679]
وضاحت
(تشریح حدیث 2687)
آدابِ مجلس میں سے ہے کہ جو شخص پہلے جہاں آ کر بیٹھ گیا اسے کسی امیر کبیر کے لئے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے، کیونکہ اس میں بیٹھنے والے کی اہانت و حقارت ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ یہ حکم خاص مجالس کے لئے ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے کہ ان کے لئے کوئی شخص اپنی جگہ چھوڑ دیتا تو وہ کبھی وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه