بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورت جب باہر نکلے تو خوشبو نہ لگائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں عورت جب باہر نکلے تو خوشبو نہ لگائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2682 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ لِيُوجَدَ رِيحُهَا، فَهِيَ زَانِيَةٌ، وَكُلُّ عَيْنٍ زَانٍ". وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ: يَرْفَعُهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جو عورت عطر لگا کر باہر نکلے کہ لوگ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے، اور ہر آنکھ زنا کرنے والی ہے۔
ابوعاصم نے کہا: ہمارے بعض مشائخ نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح مرسلا وهو صحيح موصولا أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 2688] »
مذکورہ بالا حدیث کی سند مرسل ہے لیکن دیگر کتبِ حدیث میں مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحیح سند سے مروی ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2786] ، [نسائي 5141] ، [ابن حبان 4424] ، [موارد الظمآن 1474] ، اور اس میں ہے «كل عين زانية بدل زاني» اور «زانية» ہی صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2681)
عورت کا خوشبو لگا کر باہر نکلنا حرام ہے۔
چاہے وہ پرفیوم ہو، سینٹ ہو یا اور کوئی خوشبو، بلکہ نسائی شریف (5130) میں ہے کہ جو عورت خوشبو لگا لے اور اسے مسجد میں آنا ہو تو غسل کر لے غسلِ جنابت کی طرح، اور ایسی عورت کے لئے بڑی توہین اور گناہ کی وعید سنائی کہ وہ زانیہ عورت کی طرح سے ہے۔
لہٰذا عورتوں کو سینٹ وغیرہ لگا کر گھر سے باہر نکلنے سے بچنا چاہیے۔
الحكم: إسناده صحيح مرسلا وهو صحيح موصولا أيضا