إِسْحَاق ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، الْحُضَيْنِ ، الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْحُضَيْنِ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، "فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ، رَدَّهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سلام کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، تب سلام کا جواب دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ورواية الحسن عن التابعين موصولة وإن عنعن. والحضين هو ابن المنذر، [مكتبه الشامله نمبر: 2683] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 17] ، [نسائي 38] ، [ابن ماجه 350، بسند ضعيف عن أبى هريرة] ۔ نیز دیکھئے: [أحمد 80/5] ، [ابن حبان 803] ، [موارد الظمآن 189] ، [طبراني 329/20، 780، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2676)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کرنے والے کو نہ سلام کرنا چاہیے اور نہ وہ ایسی حالت میں جواب دے، اور جواب دینے کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیمّم کیا پھر جواب دیا، لیکن وہ روایت بہت ضعیف ہے۔
«كما مر آنفا» ۔
الحكم: إسناده صحيح ورواية الحسن عن التابعين موصولة وإن عنعن. والحضين هو ابن المنذر