بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب کسی کو سلام کیا جائے تو جواب کس طرح دے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں جب کسی کو سلام کیا جائے تو جواب کس طرح دے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2674 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكاتُهُ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ مبارکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا: اے عائش! یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
انہوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ دیکھ رہے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی (یعنی جبریل علیہ السلام کو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2680] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6249] ، [مسلم 2447/91] ، [أبوداؤد 5232] ، [ترمذي 2693] ، [نسائي 3958] ، [ابن ماجه 3696] ، [أبويعلی 4781] ، [ابن حبان 7098] ، [الحميدي 279]
وضاحت
(تشریح حدیث 2673)
اس حدیث سے کسی اجنبی کا اجنبی عورت کو سلام کرنا اور عورت کا اسے جواب دینا ثابت ہوا، نیز یہ کہ اس کا جواب وعلیکم السلام نہیں بلکہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سے دینا چاہیے۔
اس حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ روح القدس انہیں سلام کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور لطف و کرم بھی معلوم ہوا، اور یہ کہ لاڈ و پیار میں شوہر اپنی بیوی کا نام بدل کر کسی پیارے نام سے پکار سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائش! عائشہ نہیں کہا، «﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔
الحكم: إسناده صحيح