بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2673 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرٌ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ"أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ فِي نِسْوَةٍ مَرَّ عَلَيْهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بنوعبدالاشہل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ عورتوں کے ساتھ تھیں جن کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گزرے تو انہیں سلام کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2679] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 5204] ، [ترمذي 2698] ، [ابن ماجه 3701] ، [أحمد 452/6] ، [الأدب المفرد 1047]
وضاحت
(تشریح حدیث 2672)
اس حدیث سے اجنبی مرد کا اجنبی عورتوں سے سلام کرنا ثابت ہوا۔
علمائے کرام نے کہا: اگر فتنے کا ڈر نہ ہو تو مرد عورت کو اور عورت مرد کو سلام کرسکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے اور یہی صحیح ہے، صحابہ کرام بھی ازواجِ مطہرات کو سلام کیا کرتے تھے۔
ہاں! اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
سلام کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور نہ جواب دینے میں کوئی حرج ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده حسن