بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بچوں کو سلام کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں بچوں کو سلام کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2672 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، سَيَّارٍ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ:"أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیار نے کہا: میں ثابت البنانی کے ہمراہ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے، پھر حدیث بیان کی کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ بچوں کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2678] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6247] ، [مسلم 2168] ، [أبوداؤد 5202] ، [ترمذي 2696] ، [ابن ماجه 3700] ، [أحمد 183/3] ، [أبويعلی 3799] ، [شرح السنة 3305] ، [عمل اليوم و الليلة لابن السني 226]
وضاحت
(تشریح حدیث 2671)
بچوں کو سلام کرنے میں تواضع جھلکتی ہے، اور اس میں ان کی دلجوئی کا اہتمام اور ان کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔
اس کے علاوہ ان پر سلام کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
اس لئے بچوں کو سلام کرنا سنّت اور اسوۂ پیغمبر ہے۔
الحكم: إسناده صحيح