بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سلام کو عام کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں سلام کو عام کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2668 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَوْفٍ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ، فَقَالُوا: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ , يَقُولُ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لا رہے تھے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہ تک رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگ باہر نکل کر آئے۔ میں ان میں تھا اور جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا تو (دل میں) کہا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی یہ تھی: لوگو! سلام پھیلاؤ (یعنی آپس میں بھی سلام کیا کرو)، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور جب لوگ سوتے ہوں تو تم نماز پڑھو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2674] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2485] ، [ابن ماجه 1334] ، [ابن سني فى عمل اليوم و الليلة 215] ، [شرح السنة 40/4] و [الحاكم 13/3] ، [أبويعلی 108/11، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2667)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افشاءِ اسلام، کھانا کھلانے، صلہ رحمی، اور رات میں نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ یہ اعمال جنّت میں لے جانے والے ہیں، آپس میں محبت پیدا کرتے اور مخلوق کا ناطہ خالق سے جوڑتے ہیں۔
الله تعالیٰ سب کو ان اعمالِ صالحہ کی توفیق بخشے، آمین۔
الحكم: إسناده صحيح