سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ بَابَهُ، فَقَالَ: "مَنْ ذَا؟". فَقُلْتُ: أَنَا. قَالَ:"أَنَا؟ أَنَا؟!"فَكَرِهَ ذَاكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میں ہوں، فرمایا: ”میں،“ میں یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2672] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6250] ، [مسلم 2155] ، [أبوداؤد 5187] ، [ترمذي 2711] ، [ابن ماجه 3709] ، [ابن حبان 5808]
وضاحت
(تشریح حدیث 2665)
«أَنَا أَنَا» یا میں میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوال کا جواب نہیں تھا۔
انہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں جابر ہوں، نام نہیں بتایا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میں میں کو ناپسند فرمایا۔
ہم نے اس دور کے محدث و مفتی سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ الله کو دیکھا اور سنا تھا، ٹیلیفون پر کوئی پوچھتا آپ کون ہیں تو بلا تردد کہتے: میں عبدالعزيز ابن باز ہوں، نہ آپ کے چہرے پر شکن آتی اور نہ ہی کبھی ناگواری دیکھنے میں آتی۔
بعض لوگ اپنا ”اسم گرامی“ بتانا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه