بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سینگی یا پچھنے لگانے کی اجرت سے ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب سینگی یا پچھنے لگانے کی اجرت سے ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2657 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ: أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے کی کمائی بری ہے (یعنی سینگی لگانے کی اجرت لینا برا ہے) اور فاحشہ عورت کی کمائی خبیث ہے، اور کتے کی قیمت لینا برا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2663] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2282] ، [مسلم 1568، وليس فيه ذكر كسب الحجام] ، [أبوداؤد 3421] ، [ترمذي 1275] ، [ابن حبان 5152] ، [شرح معاني الآثار 52/4] ، [الحاكم 42/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 2656)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پچھنا لگوانے کی اجرت خبیث، اور زانیہ عورت اور کتے کی قیمت بھی خبيث ہے یعنی حرام ہے، جس کا ذکر حدیث رقم (2604) میں گذر چکا ہے۔
البتہ سینگی یا پچھنے کی اجرت لینے کے بارے میں تفصیل ہے، وہ یہ کہ یہاں خبیث سے مراد حرام نہیں بلکہ صرف کراہیت محسوس ہوتی ہے، اور اگر حرام ہوتی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں پچھنا لگوانے کی اجرت دیتے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح