بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دو یا تین سال کے لئے زمین بیچنے کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب دو یا تین سال کے لئے زمین بیچنے کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2653 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوُ ثَلَاثًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خالی زمین دو یا تین سال کے لئے بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2659] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1536] ، [أحمد 338/3-395] ، [أبويعلی 1806] ، [ابن حبان 4992] ، [الحميدي 1292]
وضاحت
(تشریح حدیث 2652)
اس کا مطلب یہ ہے: کوئی شخص خالی زمین یا درختوں کے پھل دو یا تین برس کے لئے بیچے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت موجود ہے، نیز اس کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں جو بالاجماع باطل ہے، اس لئے کہ اس میں دھوکہ ہے، شاید وہ درخت پھل نہ دے، یا کھیتی کی پیداوار نہ ہو، یا ہو سکتا ہے اور کوئی آفت آجائے۔
الحكم: إسناده صحيح