بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی زمین کو بٹائی پر دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی زمین کو بٹائی پر دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2650 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ أَوْ زَرْعٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ خیبر سے کاشت اور کھجور کی آدھی (نصف حصہ) بٹائی پر معاہدہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2656] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2329] ، [مسلم 1551] ، [أبوداؤد 3008] ، [أحمد 17/2، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2649)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے زمین کی بٹائی کا ٹھیکہ طے فرمایا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے شروع تک جاری ہی رہا، لیکن یہودیوں کی مسلسل شرارتوں کی وجہ سے انہوں نے اہلِ خیبر کو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔
اس حدیث سے غیر مسلمین سے معاملہ کرنے، تجارت و کھیتی باڑی میں شراکت کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح