بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
درخت لگانے کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب درخت لگانے کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2646 سنن دارمی
الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبُو سُفْيَانَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أُمُّ مُبَشِّرٍ
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِي، فَقَالَ:"يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا، أَمْ كَافِرٌ؟". قُلْتُ: مُسْلِمٌ، فَقَالَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ، أَوْ دَابَّةٌ، أَوْ طَيْرٌ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مجھ سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی بیوی سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس میرے باغ میں تشریف لائے اور فرمایا: اے ام مبشر! یہ (کھجور کے) درخت کس نے لگائے؟ مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے عرض کیا: مسلمان نے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی آدمی، جانور، یا پرندہ کھائے تو یہ اس کے لئے صدقہ ہے (یعنی درخت لگانے والے مسلمان کو صدقہ کرنے کا اجر و ثواب ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2652] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1552] ، [أحمد 362/6] ، [أبويعلی 2213] ، [ابن حبان 3368] ، [الحميدي 1311]
وضاحت
(تشریح حدیث 2645)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ درخت لگانے، اور دیگر روایات میں کھیتی کرنے کا بھی بڑا اجر و ثواب ہے، جو مسلمان درخت لگائے یاکھیتی باڑی کرے اور اس سے جو بھی کوئی کھائے گا اس کے لئے صدقہ ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ یہ صدقہ جاریہ ہے اور قیامت تک اس کو اس کا ثواب ملتا رہے گا، جب تک کہ وہ درخت موجود رہے اور پھل دیتا رہے۔
الحكم: إسناده صحيح