بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2639 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ ، إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟. قَالَ:"وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (جھوٹی) قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق لے لے تو الله تعالیٰ نے اس کے لئے دوزخ واجب کر دی اور جنت اس پر حرام کر دی، اس صحابی نے عرض کیا: چاہے تھوڑی سی چیز ہوتب بھی؟ فرمایا: چاہے پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2639]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2645] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 137] ، [نسائي 5434] ، [ابن ماجه 2324] ، [أبويعلی 5114] ، [ابن حبان 5087] ، [الحميدي 95]
وضاحت
(تشریح حدیث 2638)
جھوٹی قسم کھانا بذاتِ خود سخت گناہ ہے۔
پھر جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال غصب کرنا یہ اور بھی بڑا گناہ ہے، اور مسلمان و غیر مسلمان کی اس میں کوئی قید نہیں، گرچہ اس حدیث میں جہنم کے واجب ہونے اور جنّت کے حرام ہونے کو مسلمان کے مال کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ حکم عام ہے، کسی کا بھی مال ہڑپ کرنا بلا حق و جواز کے حرام ہے اور اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرنا اور زیادہ بڑا گناہ ہے، اور اس مال کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، بلکہ تھوڑی سی بھی وہ چیز ہو تب بھی لینا، قبضہ کرنا حرام ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2640 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ......... فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی مثلِ سابق حدیث مروی ہے۔ ترجمہ اوپر گذر چکا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2646] »
تخریج اوپرگذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح